وادی سون کے قدیم. ہیبت ناک اور تاریخی قلعہ
وادی سون کے قدیم. ہیبت ناک اور تاریخی قلعہ تلاجھا پر ایک شاندار تحریر شیر خوارزم سلطان جلال الدین ’’ ہزار مرد‘‘ کے قلعے تک آصف محمود سون کی وادی میں کچے راستے پر میلوں اندر جانے کے بعد ایک موڑ آیا تو دور پہاڑ کی چوٹی پر جلال الدین خوارزم شاہ کے قلعے پر پہلی نظر پڑی اور حیرت سے وہیں جم کر رہ گئی ۔ قلعہ نہیں تھا ، یہ شیر خوارم کی کچھار تھی ۔ بادشاہوں کے قلعے دلی ، لاہور اور روہتاس کے قلعوں جیسے ہوتے ہوں گے لیکن شیروں کی کچھار ایسی ہی ہوتی ہے جیسے یہ قلعہ تھا ۔ قدرت نے شاید یہ پہاڑ بنایا ہی اسی لیے تھا کہ ایک روز خوارزم کا زخمی سلطان یہاں آئے تو سنگلاخ چٹانیں اس کا قالین ، نیلا آسمان اس کی چھت اور حیران کر دینے والا عمودی پہاڑ اس کی فصیل بن جائیں ۔ ۔۔۔ یہ قلعہ تلاجھہ تھا۔ جلال الدین پر ہمارے ہاں بہت کم لکھا گیا لیکن اس کے باوجود جب جب اس کی کہانی پڑھی ، سحر سا طاری ہو گیا ۔ ازبک شاعر سیف الدین نے لکھا تھا جب ہم اپنے قبیلے کے بہادروں کے قصے لکھتے ہیں تو ہم جلال الدین کا ذکر نہیں کرتے کہ جہاں شیر خوارزم کی عملداری شر...